اقلیتوں سے کانگریس اور الیکشن گاندھی کی ہمدردی صرف انتخابی مفادات تک محدود
وقف بل پر مباحث کے دوران راہول کی خاموشی اور پریانکا کی غیر حاضری قابل مذمت

اقلیتوں سے کانگریس اور الیکشن گاندھی کی ہمدردی صرف انتخابی مفادات تک محدود
وقف بل پر مباحث کے دوران راہول کی خاموشی اور پریانکا کی غیر حاضری قابل مذمت
ٹوپی پہن کر ووٹ مانگنا اور اقتدار کے حصول کے بعد مسلم بھائیوں کونظر انداز کرنا کانگریس کا وطیرہ
بی آر ایس ابتدا ہی سے مسلمانوں کے مفادات کی پاسدار ۔راجیہ سبھا میں وقف بل کے خلاف ووٹ کا استعمال : کے کویتا
رکن قانون ساز کونسل بی آر ایس کلواکنٹلہ کویتا نے کانگریس قیادت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ ملک کی 30 کروڑ اقلیتی آبادی کے تئیں راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کی ہمدردی صرف انتخابی مفادات تک محدود ہے۔حیدرآباد میں آج اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل پر بحث کے دوران راہول گاندھی نےخاموشی اختیار کی اور پرینکا گاندھی نے اجلاس میں شرکت ہی نہیں کی جو کہ افسوسناک ہے۔کویتا نے راہول گاندھی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو آئین کا محافظ قرار دیتے ہیں، لیکن جب پارلیمنٹ میں آئینی حقوق پامال کئے جا رہے تھے تب وہ خاموش بیٹھے رہے۔ یہ طرز عمل صرف سیاسی مصلحت پر مبنی ہےجس کا اقلیتوں کے مفاد سے کوئی تعلق نہیں۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا کانگریس اور اس کے ’الیکشن گاندھی‘صرف ووٹ کے وقت اقلیتوں کو یاد کرتے ہیں؟۔انہوں نے کہا کہ ٹوپی پہن کر ووٹ مانگنا اور اقتدار میں آ کر اقلیتوں کو فراموش کر دینا کانگریس کا حقیقی چہرہ ہے۔رکن کونسل کویتا نے کہا کہ راہول گاندھی نے لوک سبھا میں وقف بل پر ایک لفظ نہیں کہا اور پرینکا گاندھی جو سب سے زیادہ اقلیتی ووٹروں کے حلقے سے ایم پی منتخب ہوئیں، اجلاس سے غیر حاضر رہیں۔یہ رویہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کانگریس اور اس کی قیادت کو اقلیتوں کی فلاح و بہبود سے کوئی سروکار نہیں۔رکن کونسل کویتا نے کہا کہ بی آر ایس پارٹی نے ابتدا سے ہی اقلیتوں کی حمایت میں واضح موقف اختیار کیا ہے اور وقف ترمیمی بل کے خلاف راجیہ سبھا میں آواز بلند کی اور بل کے خلاف ووٹ دیا۔انہوں نے پر زور انداز میں کہا کہ جب اقلیتوں کو سب سے زیادہ سہارے کی ضرورت تھی تب راہول گاندھی نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا۔انہوں نے کہا کہ جو شخص پارلیمنٹ میں اقلیتوں کی آواز نہیں بن سکا، وہ کل ان کا محافظ کیسے بنے گا؟ایم ایل سی کویتا نے کہا کہ وقف ترمیمی بل جیسے اہم مسئلہ پر کانگریس قیادت کی خاموشی نے اقلیتوں کے تئیں ان کی بے رخی کو ثابت کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بی آر ایس پارٹی اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے حقوق، فلاح و بہبود اور تحفظ کے لئے اپنی آواز مسلسل بلند کرتی رہے گی۔