گریٹرحیدرآبادمیں گرما میں پانی کی بڑھتی طلب کو پوراکرنے واٹربورڈ کے اقدامات

گریٹرحیدرآبادمیں گرما میں پانی کی بڑھتی طلب کو پوراکرنے واٹربورڈ کے اقدامات
بنگلور جیسی خطرناک صورتحال کوروکنے بیداری کی ضرورت،کفایت سے پانی کا استعمال کریں:منیجنگ ڈائرکٹرواٹربورڈاشوک ریڈی
گریٹرحیدرآباد کے اطراف و اکناف کی 18بلدیات اور 17پنچایتوں کے تقریباً دیڑھ کروڑ افراد کی پیاس بجھانے کے لئے ذخائرآب عثمان ساگر‘حمایت ساگر‘سنگور‘مانجرا‘کرشنا اور ناگرجناساگر‘گوداوری فیس 1ریزروائر کا اہم ذریعہ ہیں ان سے13.7لاکھ آبی کنکشنس کو روزانہ 550 ایم جی ڈی پارٹی واٹر بورڈ سپلائی کرتا ہے تاہم گزشتہ 10برس میں شہر میں بڑے پیمانہ پر توسیع‘آبادی میں اضافہ کے سبب واٹر بورڈ پر دباو بڑھ گیا ہے۔ گزشتہ سال کے برخلاف جاریہ سال پینے کے پانی کی طلب میں مزید اضافہ درج کیا گیا۔ اس طلبہ کو پورا کرنے کے لئے واٹر بورڈ کوششیں کررہا ہے۔ واٹربورڈ کے منیجنگ ڈائرکٹر اشوک ریڈی نے ایک تلگو نیوز چیانل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال جو مسائل پیش آئے تھے ویسے مسائل پیش نہ آئیں اس کے لئے کام کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلہ میں جاریہ سال جنوری میں 66فیصد ٹینکرس کی بکنگ میں اضافہ ہوگیا ہے۔ مارچ اور اپریل میں اس میں کتنے فیصد اضافہ ہوگا اس پر غور کیا جارہا ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلہ 80تا 90فیصد زائد طلب کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپلائی کی گنجائش کے لحاظ سے 100اضافی ٹینکرس کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں۔ٹینکرس کو بھرنے کے وقت کو کم کیا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ٹینکرس کم وقت میں شہریوں کو فراہم کئے جاسکیں۔ ٹرپس کی تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایپا سوسائٹی‘ کونڈاپور‘ گچی باولی‘کوکٹ پلی‘ شیخ پیٹ‘جوبلی ہلز‘بنجارہ ہلز‘امیر پیٹ‘ قطب اللہ پور اور بنڈلہ گوڑہ میں ایسی صورتحال ہے۔ ان علاقوں میں 80فیصد ٹینکرس کی طلب ہیں تاہم شہر کے چار تا پانچ ڈیویژنس میں یہ مسئلہ زیادہ ہے کیونکہ ان علاقوں میں اپارٹمنٹس کی تعداد زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں بورویلس کی سہولت نہیں ہے جو بورویلس ہیں وہ خشک ہورہے ہیں۔ ایک اپارٹمنٹ کے لئے ایک سال کے دوران 540ٹینکرس بک کئے گئے۔ ان کے پانی کا مکمل انحصار واٹر بورڈ پر ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ موسم برسات میں بھی ٹینکرس کی بکنگ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی کمی کو روکنے کے لئے احتیاط کرنے کے باوجود بورڈ کے بعض ارکان عملہ نے مسائل پیدا کئے ہیں۔ ان ارکان عملہ پرتکنیکی طور پر بورڈ نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا بھی دیکھا گیا کہ ایک واٹر ٹینکر ڈرائیور نے پانی کے کنکشنس کے لئے دیئے جانے والے مخصوص کیان نمبر کے ذریعہ 100تا 200ٹینکرس کی بکنگ کروائی۔ 200تا300روپئے زائد دیتے ہوئے یہ ٹینکرس ضرورت مندوں کو دیئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ جن فون نمبرات اور کیان نمبرات سے زیادہ بکنگ کروائی گئی ان کی تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک سلم علاقہ میں ایک کیان نمبر سے 100ٹینکرس کی بکنگ کی گئی۔ جب پتہ چلایا گیا تو معلوم ہوا کہ جس کیان نمبر کے ذریعہ 100ٹینکرس کی بکنگ کروائی گئی وہ ایک چھوٹا سا مکان ہے اور جب فون نمبر کی تفصیلات حاصل کی گئیں تو پتہ چلا کہ واٹرٹینکر کے ڈرائیور کا یہ نمبر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے 100نمبروں کو بلاک کردیا گیا۔ ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ان کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے‘ جرمانہ عائد کیا جارہا ہے اور ان کی گرفتاری کو یقینی بنایا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جاریہ موسم گرما میں پانی کا غلط استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے لئے بورڈ تیار ہے کیونکہ بورڈ 50روپئے میں ایک کیلو لیٹر پانی دریائے گوداوری سے حاصل کرتے ہوئے اس کا ٹریٹمنٹ کرکے صارفین کو سپلائی کررہا ہے تاہم دیکھنے میں یہ آرہا ہے کہ کاروں اور اسکوٹروں کو دھونے کے لئے پینے کا پانی استعمال کیا جارہا ہے جو جرم ہے۔ ضرورت پڑنے پر جرمانہ کی رقم میں اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ بنگلور جیسی خطرناک صورتحال پیدا نہ ہونے کے لئے شہریوں میں بیداری کی ضرورت ہے۔ عوام کو چاہئے کہ وہ ذمہ داری سے کام کرے۔ حالیہ دنوں کے دوران علاقوں‘ آبادی اور آبی ضرورت میں اضافہ ہوا ہے۔ بورڈ پانی کی دستیاب مقدار سے استفادہ کے لئے اقدامات کررہا ہے۔ منصوبہ کے مطابق پانی کی سربراہی کو یقینی بنایا جارہا ہے تاہم شہریوں کی ذمہ داری ہے کہ کفایت سے پانی کا استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ 100دنوں میں زیرزمین آبی سطح میں اضافہ کے لئے پانی جمع کرنے کے ڈھانچے گھروں میں بنائے جانے چاہئیں۔ آئندہ سال پانی کا مسئلہ درپیش نہ ہو‘ اس کے لئے ان 100دنوں میں پانی کی بچت کا کام کیا جائے۔ اس سلسلہ میں بیداری پیدا کی جارہی ہے تاہم بعض افراد اس پر مناسب ردعمل ظاہر نہیں کررہے ہیں۔ شہر کے پانی کی مستقبل کی ضروریات کے تکمیل کے لئے دریائے گوداری کے مرحلہ دوم اور سوم کے سلسلہ میں حکومت مکمل منصوبہ بندی کررہی ہے۔ اس کام کی دو سال میں تکمیل پر موجودہ آبی قلت دور ہوگی اور آئندہ پانچ سال کے لئے بے فکری ہوسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملناساگر ریزروائر میں 50ٹی ایم سی پانی ہے۔ اس کے دو مرحلوں کے کام ایک ساتھ کئے جارہے ہیں اور دو لائنیں لائی جارہی ہیں۔ اس کام کی تکمیل پر آئندہ 10سال تک پانی کافی ہوگا۔