حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے ورثہ کو مسمار کرنے کی سازش
امیروں کا تحفظ، غریبوں پر حملہ۔متعصبانہ رویہ آشکار:رکن کونسل کویتا

حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے ورثہ کو مسمار کرنے کی سازش
کانگریس کی عوام دشمن اور ماحول مخالف پالیسی بے نقاب
امیروں کا تحفظ، غریبوں پر حملہ۔متعصبانہ رویہ آشکار
یونیورسٹی کے قدرتی اور پرامن تعلیمی ماحول کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کی مذمت
تعلیمی اداروں ،غریبوں کے حقوق اور ماحولیات کے تحفظ کے لئے جدوجہد کاعزم: کے کویتا
رکن قانون ساز کونسل بی آر ایس و صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے کانگریس پارٹی کی متعصبانہ پالیسی پر شدید تنقید کی اورکہا کہ کانگریس ہمیشہ امیروں کو تحفظ فراہم کرتی ہےاورغریبوں اور کمزور طبقات کو نشانہ بناتی ہے۔تلنگانہ میں کانگریس حکومت کی جانب سے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی (HCU) کی زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش ایک کھلی بد عنوانی ہے. اس معاملہ میں عدالت پہلے ہی یہ فیصلہ صادر کر چکی ہے کہ یہ زمین قانونی طور پر یونیورسٹی کی ملکیت ہے۔ یہ وہی زمین ہے جو سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے دور میں دی گئی تھی اور جسے بی آر ایس حکومت نے ہمیشہ تحفظ فراہم کیا لیکن اب کانگریس حکومت اس پر زبردستی قبضہ کرنےکی کوشش کر رہی ہے۔
کویتا نے کہا کہ کانگریس پارٹی، بی آر ایس پر بے بنیاد الزامات عائد کر رہی ہے اور یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ ہم بااثر افراد جیسے مائی ہوم, رامیشور راؤ کی حمایت کررہے ہیں، لیکن حقیقت یہی ہے کہ کانگریس میں خود اتنی ہمت نہیں کہ وہ ان کے خلاف تحقیقات اور کارروائی کرے۔ کویتا نے واضح اور دوٹوک انداز میں کہا کہ اگر کانگریس کے پاس ہمت ہے تو وہ جانچ کرے اور رامیشور راؤ کے خلاف بلڈوزر کارروائی کرے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس امیروں کو تحفظ فراہم کررہی ہے اور غریبوں کونشانہ بنا رہی ہے۔ کانگریس، حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کو نقصان پہنچا کر عام شہریوں، غریبوں اور کمزور طبقات کو نشانہ بنا رہی ہے۔اگر کانگریس حکومت واقعی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لئے زمین چاہتی ہے تو وہ پہلے سے موجود 397 ایکڑ زمین استعمال کرے جو پہلے ہی حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے لئے مختص کی گئی ہےلیکن اس کے بجائے، کانگریس حکومت ایچ سی یو کے 2500 ایکڑ پر مشتمل کیمپس کو نشانہ بنا رہی ہے جو اس کے قدرتی حسن، ماحولیات اور پرامن تعلیمی نظام کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے۔حیدرآباد میں پہلے ہی ترقی کے لئے بہت ساری اراضیات موجود ہیں لیکن HCU کی زمین پر بلڈوزر چلانے کا مطلب یہی ہے کہ کانگریس حکومت کو تعلیمی اداروں کی حرمت اور ماحول کے تحفظ کی کوئی پرواہ نہیں۔
بی آر ایس لیڈر کویتا نے کانگریس حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ عدالت کے فیصلے کا احترام کرے اور حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کی زمین کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ حقائق کو توڑ مروڑ کر تعلیمی اداروں پر حملہ کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ کانگریس کی اصل ترجیح صرف بااثر طبقے کو فائدہ پہنچانا ہےاور عام لوگوں اورقدرتی وسائل کو نقصان پہنچانا اس کی پالیسی کا حصہ بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ بی آر ایس پارٹی ہمیشہ تعلیمی اداروں کے تحفظ،غریبوں کے حقوق اور ماحولیات کی حفاظت کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔