تلنگانہ ؍ اضلاع کی خبریں

تلنگانہ میں تقریباً12فیصد مسلم آبادی کیلئے صرف 1.1فیصد بجٹ مختص

ائمہ ومو ذنین کے اعزازیہ میں اضافہ کے وعدے پر تاحال عدم عمل آوری، جینور فسادات پر حکومت کی خاموشی‘متاثرین کو فی الفور معاوضہ دیاجائے

تلنگانہ میں تقریباً12فیصد مسلم آبادی کیلئے صرف 1.1فیصد بجٹ مختص
راہول گاندھی کے بیان جتنی آبادی اتنی حصہ داری کا کیا ہوا‘کونسل میں محمدمحمود علی کا استفسار
گزشتہ برس منظورہ اقلیتی بجٹ کا 40فیصد بھی صرف نہیں کیاگیا
وعدوں اور ضمانتوں کے نام پر عوام کے ساتھ دھوکہ
بجٹ اعدادوشمار کا الٹ پھیر اور حقیقت سے عاری
 اپوزیشن قائدین کیخلاف جھوٹے مقدمات کا اندراج
کسان سرکاری ملازمین‘ طلبہ‘اقلیتیں مشکلات کا شکار
زرعی شعبہ کی حالت ابتر‘فصلیں خشک‘کسان اشکبار
ابوالکلام تحفہ تعلیم اسکیم کا وعدہ صرف کاغذ کی حد تک محدود
ائمہ ومو ذنین کے اعزازیہ میں اضافہ کے وعدے پر تاحال عدم عمل آوری
جینور فسادات پر حکومت کی خاموشی‘متاثرین کو فی الفور معاوضہ دیاجائے

حیدرآباد۔21/مارچ(آداب تلنگانہ نیوز)رکن کونسل بی آر ایس محمد محمود علی نے آج تلنگانہ قانون ساز کونسل میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کی مجموعی آبادی میں مسلمان تقریباً12 فیصد ہیں۔ خود کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے اعلان کیا تھا کہ جتنی آبادی اتنی حصہ داری۔ لیکن بجٹ میں اقلیتوں کے لئے صرف 1.1 فیصد رقم مختص کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کے اقتدار میں سال 2023-24 میں اقلیتوں کے لئے جملہ 2ہزار200 کروڑ روپئے مختص کئے گئے تھے اور 1ہزار800 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے۔ کانگریس نے گزشتہ سال 3003 کروڑروپئے منظور کئے اور صرف 1ہزار400 کروڑ روپئے صرف کئے۔ جو بی آر ایس دور حکومت کے مقابلہ میں 400 کروڑ روپئے کم ہیں۔سابق وزیر نے بتایا کہ عوام 5 سال کے لئے حکومت کا انتخاب کرتے ہیں۔ کانگریس نے اپنی 25 فیصد میعاد مکمل کرلی ہے۔ ان 15 ماہ کے دوران نہ اقلیتی بجٹ کا مناسب استعمال ہورہا ہے اور نہ ہی اقلیتی وزیر موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے  پھر ایک مرتبہ عوام کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ بجٹ صرف اعداد و شمار کا الٹ پھیر ہے، حقیقت سے کافی دور ہے اور عوام کی فلاح و بہبود پوری طرح نظر اندازکردی گئی  ہے۔ محمود علی نے کہا کہ اقلیتوں سے کیا گیا وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔6 ضمانتوں اور 420 وعدوں کی تکمیل کے لئے بجٹ میں کوئی صراحت نہیں۔ ماقبل انتخابات عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کے لئے کانگریس سنجیدہ نہیں۔بجٹ میں عوامی وعدوں کی تکمیل کے لئے فنڈس کے مختص کرنے سے گریزکیا گیا ہے۔ماقبل انتخابات کانگریس نے چھ ضمانتوں کا اعلان کیا۔افسوس 15 ماہ گزرجانے کے باوجود ان ضمانتوں کی ضمانت دینے ولا کوئی نہیں ہے۔ گلی سے دلی کے قائدین نے انتخابات میں چھ ضمانتوں کا خوب پرچار کیا۔گلی کے قائدین روپوش ہوگئے اور دلی کے قائدین نے تلنگانہ سے منہ موڑ لیا ہے۔آخر عوام کس سے فریاد کریں۔ عوام کی جانب سے آواز اٹھانے پر اپوزیشن قائدین پر جھوٹے مقدمات کا اندراج عمل میں لایاجارہاہے۔ جمہوریت کا قتل عام‘ صحافیوں پر مقدمات کا اندراج اور جیل میں بند کردینا یہ ایسے حالات ہیں جو تلنگانہ کی شبیہ کو ملک بھر میں داغدار کررہے ہیں۔ کسان، سرکاری ملازمین، طلبہ، اقلیتیں اور دیگر طبقات کانگریس حکومت میں مشکلات کا شکار ہیں۔زرعی شعبہ کا براحال ہے۔ آبپاشی کیلئے پانی کی عدم سربراہی۔ فصلیں خشک۔ کسان اشک بارہیں۔انہوں نے کانگریس کی جانب سے بتائے گئے اسکیمات سے متعلق کہاکہ کانگریس نے اقلیتی اعلامیہ میں  ابوالکلام تحفہ تعلیم کے نام سے ایک اسکیم کے بارے میں بتایا تھامگر وہ صرف کاغذ کی حد تک ہی محدود رہی۔انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ایم فل اور پی ایچ ڈی مکمل کرنے والے اقلیتی طلبہ کو 5 لاکھ روپے مالی امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پوسٹ گریجویشن مکمل کرنے پر 1 لاکھ روپے‘گریجویشن کی تعلیم مکمل کرنے پر 25ہزار روپے‘انٹرمیڈیٹ مکمل کرنے پر15ہزار روپے اور دسویں جماعت کامیاب طلبہ کے لیے 10ہزار روپے دینے کا اعلان کیا تھا۔لیکن ان تمام وعدوں پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔بجٹ میں نہ ہی ابوالکلام تحفہ تعلیم اسکیم کا اعلان کیا گیا اور نہ ہی رقم مختص کی گئی۔انہوں نے شادی مبارک اسکیم سے متعلق بھی کہا کہ حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ ایک لاکھ روپئے کے ساتھ ایک تولہ سونا بھی دیں گے، مگر افسوس کے یہ وعدہ بھی پورا نہیں کیا۔ محمد محمود علی نے کہا کہ کانگریس نے محض ووٹوں کے حصول کے لئے ائمہ کے اعزازیہ کو بڑھاکر 12 ہزار روپئے اور موذنین کے اعزازیہ کو بڑھاکر 10 ہزار روپئے کرنے کا وعدہ کیا۔ اسی طرح اقلیتی اعلامیہ میں پادریوں، Granthis اور دیگر مذہبی رہنماؤں ے اعزازیہ میں بھی اضافہ کا وعدہ کیا گیا۔ ایک سال سے زائد کا عرصہ گزرجانے کے باوجود ائمہ موذنین کے اعزازیہ میں ایک روپیہ بھی اضافہ نہیں کیا گیا۔ ماہانہ 5 ہزار روپئے اعزازیہ بھی پابندی کے ساتھ جاری نہیں کیا جارہا ہے۔انہوں نے جینور فساد سے متعلق بتایا کہ کانگریس حکومت کو چاہئے کہ متاثرین کو فی الفور معاوضہ فراہم کرے۔ فساد میں اقلیتوں کی کئی دکانات کو نذر آتش کیا گیا مگر حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔ محمد محمود علی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور متاثرین کو معاوضہ فراہم کیا جائے۔ علاوہ ازیں کانگریس نے ماقبل انتخابات جتنے بھی وعدے کئے تھے تمام وعدوں کوپوراکیا جائے۔

 

متعلقہ مضامین

Back to top button