بجٹ گمراہ کن اور بعید از حقیقت ۔حکومت کے پاس کوئی بھی ویژن نہیں
ائمہ و موذنین کے اعزازیہ اور معمرین کے وظیفہ کی رقم میں کب اضافہ کیا جائے گا: کے کویتا

بجٹ گمراہ کن اور بعید از حقیقت ۔حکومت کے پاس کوئی بھی ویژن نہیں
ریاست کی مالی حالت پر ریونت ریڈی کے جھوٹے بیانات۔ صرف کے سی آر کے خلاف الزام تراشی پر انحصار
کانگریس کی متواتر دروغ گوئی پر بی آر ایس پریولیج نوٹس دینے پر مجبور ہو جائے گی
گاندھی خاندان کے ذریعہ420 وعدوں، چھ ضمانتوں کے نام پر دھوکہ دہی۔ ایک بھی وعدہ کی عدم تکمیل
موازنہ کانگریس کے کرپشن کا آئینہ دار۔عوام کے مفادات نظر انداز
ریاستی حکومت ترقی کی راہ میں رکاوٹ۔ خواتین کو ماہانہ 2500 روپئے مالی امداد کا وعدہ فراموش
ائمہ و موذنین کے اعزازیہ اور معمرین کے وظیفہ کی رقم میں کب اضافہ کیا جائے گا
ابوالکلام تحفہ تعلیم اسکیم صرف کاغذی حد تک محدود۔غریب لڑکیوں کی شادی میں ایک تولہ سونا کا وعدہ بھی وفا نہیں ہوا
بی آر ایس عوام کے حقوق کے حصول کے لئے لڑائی جاری رکھے گی: کے کویتا
حیدرآباد:تلنگانہ قانون ساز کونسل میں بی آر ایس رکن کلواکنٹلہ کویتا نے ریاستی حکومت کے بجٹ پر سخت تنقید کی اور کہا کہ کانگریس حکومت کی پالیسیوں میں کوئی ویژن نہیں ۔یہ بجٹ محض عوام کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ ریوَنت ریڈی ریاست کی مالی حالت پر جھوٹے بیانات دے رہے ہیں اور صرف سابق وزیراعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) کو بدنام کرنے میں مصروف ہیں۔
کے کویتا نے کہا کہ وزیراعلیٰ ریوَنت ریڈی ہر موقع پر ریاست کی معیشت کو لے کر غلط بیانات دے رہے ہیں اور انہیں شاید جھوٹ بولنے پر گینیز ورلڈ ریکارڈ مل جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت مسلسل جھوٹ بولتی رہی تو بی آر ایس پرولیج نوٹس دینے پر مجبور ہوجائے گی۔
کلواکنٹلہ کویتا نے کانگریس کے انتخابی منشور پر سوال اٹھائے اور کہا کہ ”420 وعدے کر کے، گاندھی خاندان سے ضمانتیں دلوا کر عوام کو گمراہ کیا گیا، لیکن آج کوئی وعدہ پورا ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اتنے حربوں کے باوجود بھی کانگریس کو بی آر ایس سے صرف ایک فیصد زیادہ ووٹ ملے، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ عوام نے بی آر ایس کو مسترد نہیں کیا۔
ایم ایل سی کویتا نے وزیراعلیٰ پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ سکریٹریٹ میں ایک مہمان کی طرح آتے ہیں اور عوامی شکایات سننے کے وعدے کے باوجود صرف ایک بار ”پرجا دربار” میں شرکت کی۔ ”عوام سے روز ملنے کا وعدہ کرنے والے وزیراعلیٰ کو عوام سے ملاقات کرنے میں دلچسپی نہیں۔انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف پولیس کنٹرول روم میں بیٹھ کر حکومت چلا رہے ہیں۔
کویتا نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ کانگریس کے کرپشن اور چالاکی کا آئینہ دار ہے۔ کرپشن کانگریس کے ڈی این اے میں شامل ہے، اسی لئے یہ حکومت کسی بھی ترقیاتی شعبے کو اہمیت نہیں دے رہی ہے ۔
بی آر ایس دور میں ہر سال اوسطاً 43 ہزار کروڑ روپئے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہوتے تھے، جبکہ کانگریس حکومت نے صرف 33,000 کروڑ مختص کئے۔
وزیراعلیٰ دعویٰ کر رہے ہیں کہ حکومت کے پاس پیسے نہیں، جبکہ بی آر ایس کے دور میں ہر ماہ 2,700 کروڑ خرچ ہوتے تھے، اور کانگریس حکومت صرف 500 کروڑ بھی خرچ نہیں کر پا رہی ہے ۔
زرعی شعبہ اور آبپاشی پروجیکٹس سے متعلق انہوں نے کہا کہ صرف 7.5 فیصد بجٹ آبپاشی کے لئے مختص کیا گیا جس سے صاف ظاہر ہے کہ حکومت کسانوں اور آبپاشی منصوبوں کو نظرانداز کر رہی ہے۔
رکن کونسل نے کہا کہ بی آر ایس حکومت نے ایف آر بی ایم حدود کے تحت صرف 3 لاکھ کروڑ کا قرض لیا۔کارپوریشن قرضوں سمیت کل قرضہ 4.22 لاکھ کروڑ رہا، جو کانگریس کے الزامات کے برعکس ہے۔انہوں نے استفسار کیا کہ اگر بی آر ایس حکومت اس سے زیادہ قرض لیا ہوتا تو کیا حکومت کے بجٹ دستاویزات میں ان کا ذکر نہ ہوتا؟ایم ایل سی کویتا نے کہا کہ جو حکومت سرمایہ کاروں اور عوام میں اعتماد پیدا کرنے کے بجائے خود ریاست کے دیوالیہ ہونے کی بات کرے، وہ درحقیقت ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔انہوں نے استفسار کیا کہ عوامی فلاح و بہبود کے وعدے کہاں گئے؟پسماندہ طبقہ کے لئے بجٹ میں خاطرخواہ رقم مختص نہیں کی گئی۔پنشن کی رقم میں اضافہ اور خواتین کے لئے 2,500 روپئے دینے کے وعدے لاپتہ ہوگئے۔
رکن کونسل کویتا نے کہا کہ کانگریس نے محض ووٹوں کے حصول کے لئے ائمہ کے اعزازیہ کو بڑھاکر 12 ہزار روپئے اور موذنین کے اعزازیہ کوبڑھاکر 10 ہزار روپئے کرنے کا وعدہ کیا۔ اسی طرح اقلیتی اعلامیہ میں پادریوں، Granthis اور دیگر مذہبی رہنماؤں کواعزازیہ میں بھی اضافہ کا وعدہ کیا گیا۔ ایک سال سے زائد کا عرصہ گزرجانے کے باوجود ائمہ موذنین کے اعزازیہ میں ایک روپیہ بھی اضافہ نہیں کیا گیا۔ ماہانہ 5 ہزار روپئے اعزازیہ بھی پابندی کے ساتھ جاری نہیں کیا جارہا ہے۔ پچھلی مرتبہ ہماری جانب سے کونسل میں اس ضمن میں آواز اٹھائی گئی تھی جس کے بعد حکومت نے صرف ایک دو ماہ کا اعزازیہ فراہم کیا۔اقلیتی اعلامیہ میں ابوالکلام تحفہ تعلیم کے نام سے ایک اسکیم کے بارے میں بتایا گیا مگر وہ صرف کاغذ کی حد تک ہی محدود رہی۔
کانگریس نے ایم فل اور پی ایچ ڈی مکمل کرنے والے اقلیتی طلبہ کو 5 لاکھ روپے مالی امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پوسٹ گریجویشن مکمل کرنے پر 1 لاکھ روپے اضافی۔گریجویشن کی تعلیم مکمل کرنے پر 25,000 روپے۔انٹرمیڈیٹ مکمل کرنے پر15,000 روپےاور دسویں جماعت کامیاب طلبہ کے لئے 10,000 روپے دینے کا اعلان کیا تھا۔لیکن ان تمام وعدوں پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ شادی مبارک اسکیم کے تحت ایک تولہ سونا دینے کا وعدہ کیا لیکن یہ وعدہ بھی صرف کاغذی رہا۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ حکومت مائناریٹی بجٹ 4 ہزار کروڑ روپئے مختص کرنا تھا لیکن ایسا نہیں کیا۔
اقلیتوں اور نوجوانوں کے فلاحی منصوبے بجٹ میں نظر ہی نہیں آئے۔یہ بجٹ حقیقت سے بعید ہے۔
ایم ایل سی کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ یہ بجٹ تلنگانہ کے عوام کے مفادات کو نظرانداز کرنے اور بی آر ایس حکومت کے کاموں پر جھوٹا پروپیگنڈہ کرنے کے لئے بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس عوام کے حقوق کی جنگ جاری رکھے گی اور حکومت کو اس کے وعدے یاد دلاتی رہے گی۔