عادل آباد پولیس نے بڑی سائبر کرائم سازش کو کیا ناکام
2,125 پرانے موبائل فون، 600 بیٹریاں، 107 سم کارڈز اور 5 موٹر سائیکلیں ضبط

عادل آباد پولیس نے بڑی سائبر کرائم سازش کو کیا ناکام
بین ریاستی سائبر گینگ کے پانچ ملزمان گرفتار، ماسٹر مائنڈ فرار
2,125 پرانے موبائل فون، 600 بیٹریاں، 107 سم کارڈز اور 5 موٹر سائیکلیں ضبط
ایس پی عادل آباد اکھل مہاجن کی پریس کانفرنس
عادل آباد، 11 مارچ (آداب تلنگانہ نیوز/نامہ نگار عمیم شریف) – ضلع ایس پی عادل آباد، اکھل مہاجن نے بتایا کہ عادل آباد پولیس نے ایک بڑی سائبر کرائم سازش کو ناکام بناتے ہوئے بین ریاستی سائبر گینگ کے پانچ افراد کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ گینگ کا ماسٹر مائنڈ فرار ہے۔ عادل آباد ٹو ٹاؤن پولیس اور سائبر کرائم پولیس کی مشترکہ کارروائی میں ان ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
منگل کے روز عادل آباد پولیس ہیڈکوارٹر کے میٹنگ ہال میں منعقدہ پریس کانفرنس میں ایس پی اکھل مہاجن نے اس کیس کی تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار کیے گئے ملزمان کے قبضے سے 2,125 پرانے موبائل فون، 600 موبائل بیٹریاں، 107 سم کارڈز اور 5 موٹر سائیکلیں ضبط کی گئی ہیں۔
ایس پی کے مطابق، اس گینگ کا ماسٹر مائنڈ ریاست بہار کے ضلع کٹیہار کا ساکن اے۔ون تبارق فرار ہے۔ گرفتار شدہ ملزمان کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
- محمد معراج (30 سال) ولد صان محمد، ساکن کٹیہار، بہار۔
- محبوب عالم (25 سال) ولد عبد الکلیم، ساکن کٹیہار، بہار۔
- محمد جمال (39 سال) ولد منصور علی، ساکن کٹیہار، بہار۔
- محمد عذیر (30 سال) ولد نوشاد علی، ساکن کٹیہار، بہار۔
- عبداللہ (30 سال) ولد محمد فرید، ساکن کٹیہار، بہار۔
ایس پی اکھل مہاجن نے وضاحت کی کہ یہ گینگ سائبر جرائم کے ارتکاب کے لیے پرانے موبائل فون خریدتا تھا۔ ماسٹر مائنڈ تبارق نے ریاست بہار سے اپنے ساتھیوں کو پانچ موٹر سائیکلوں کے ساتھ تلنگانہ کے ضلع عادل آباد بھیجا تھا۔ یہ ملزمان مختلف دیہاتوں اور قصبوں میں نئے ٹفن باکس کے بدلے میں پرانے موبائل فون، سم کارڈز اور بیٹریاں خریدتے تھے، جنہیں بعد میں سائبر کرائم کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
ایس پی نے مزید بتایا کہ یہ گینگ اس سے قبل ریاست کرناٹک سے بھی 10 سے 12 ہزار موبائل فون اور سم کارڈز اکٹھے کر چکا ہے، جو ماسٹر مائنڈ تبارق کے حوالے کیے گئے تھے۔ یہ ملزمان مختلف بہانوں، جیسے بینک اہلکار ہونے کا دعویٰ، جعلی نوکریوں کے وعدے، لاٹری جیتنے کی اطلاع اور دیگر حربوں کے ذریعے معصوم لوگوں سے ان کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات اور او ٹی پی حاصل کرکے دھوکہ دہی کرتے تھے۔
ضلع ایس پی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ہمیشہ معروف اور معتبر بیچنے والوں سے ہی موبائل فون خریدیں اور غیر معروف یا مشکوک افراد سے خرید و فروخت سے گریز کریں۔
اس موقع پر سائبر کرائم ڈی ایس پی حسیب اللہ، ڈی ایس پی جیون ریڈی، ٹو ٹاؤن سرکل انسپکٹر کروناکر راؤ، سی سی ایس انسپکٹر چندر شیکھر، گنگا ریڈی، سید ذاکر علی، سید راحت، نریش، جوگندر سنگھ، عبدالاحد، محمد ریاض اور دیگر پولیس عملہ موجود تھا۔
عادل آباد پولیس کی بروقت کارروائی سے ایک بڑی سائبر کرائم سازش کو ناکام بنا دیا گیا اور پانچ خطرناک ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔ تاہم، ماسٹر مائنڈ تبارق اب بھی مفرور ہے، جس کی گرفتاری کے لیے پولیس کی کوششیں جاری ہیں۔