دنیا ؍ بین الاقوامی

حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا سمجھوتا جاری ہے:اسرائیلی فوج

حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا سمجھوتا جاری ہے:اسرائیلی فوج

تل ابیب، 21 فروری : اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا سمجھوتا جاری ہے۔ مزید یہ کہ ہفتے کے روز یرغمال افراد کی رہائی مقررہ منصوبہ بندی کے مطابق عمل میں آئے گی۔
العربیہ کی رپورٹ کے مطابق کل ہفتے کو چھ اسرائیلی قیدیوں کو زندہ حالت میں حوالے کیا جائے گا جس کے مقابل اسرائیل اپنی جیلوں سے سیکڑوں فلسطینیوں کو آزاد کرے گا۔
ادھر یرغمالیوں کی لاشوں کے حوالے سے اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ بدھ کے روز حماس کی جانب سے حوالے کی جانے والی دو لاشیں شیر خوار بچے کفیر بیباس اور اس کے چار سالہ بھائی ارییل بیباس کی ہیں۔ فوج کے مطابق حوالے کی جانے والی تیسری لاش ان بچوں کی ماں شیری بیباس کی نہیں ہے جو پلان کے مطابق حوالے کی جانا تھی۔ یہ لاش کسی اور یرغمالی کی بھی نہیں ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق یہ لاش ابھی تک نا معلوم ہے۔
ادھر مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی صدر کے نمائندے اسٹیف ویٹکوف کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کا مقصد فلسطینیوں کی جبری ہجرت نہیں ہے، بلکہ یہ یقینا ان لوگوں کے لیے بہتر حقیقت پیدا کرنے اور وسیع مواقع کا دروازہ کھولنے کے لیے ہے۔
امریکی نمائندے کے مطابق غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے اور اس کے بعد کی پیش رفت کی کامیابی کا حقیقی موقع ہے۔ انھوں نے اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی سے متعلق امریکی منصوبے میں تعمیر کے میدان سے دنیا کے بہترین دماغوں کو اکٹھا کیا جائے گا۔ اس تعمیر نو میں پانچ برس سے زیادہ کا وقت لگے گا۔
فائر بندی کے بعد سے اب تک غزہ سے 19 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے اور اس کے مقابل اسرائیلی جیلوں سے 1100 سے زیادہ فلسطینیوں کو آزاد کیا گیا۔
فائر بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں جو یکم مارچ کو اختتام پذیر ہو گا، حماس تنظیم کو 33 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرنا ہے جن میں 8 لاشیں شامل ہیں۔ اس کے مقابل اسرائیل اپنی جیلوں سے 1900 فلسطینیوں کو آزاد کرے گا۔

متعلقہ مضامین

Back to top button