تلنگانہ ؍ اضلاع کی خبریں

غیر ضروری مباحث کے ذریعہ کانگریس اور بی جے پی حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کوشاں

کانگریس کی 14ماہ کی حکمرانی عوام کے لئے وبالِ جان و جہنم بن گئی: کے کویتا کا ریمارک

غیر ضروری مباحث کے ذریعہ کانگریس اور بی جے پی حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کوشاں
مودی بی سی ہیں یا نہیں۔ راہول گاندھی کا مذہب کیا ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا
دونوں ہی قومی جماعتیں پسماندہ طبقات کو تحفظات کی فراہمی کو یقینی بنائیں
کانگریس کی 14ماہ کی حکمرانی عوام کے لئے وبالِ جان و جہنم بن گئی
کے سی آر تلنگانہ عوام کے قلوب میں بستے ہیں۔نااہل حکمرانوں سے جلد از جلدنجات ضروری
بی سیز کو دھوکہ دینے کے خلاف سخت انتباہ۔کے کویتا کی میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت

رکن تلنگانہ قانون ساز کونسل بی آر ایس کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ ذات پات پر مبنی مردم شماری میں پسماندہ طبقات کےغلط اعداد و شمار کے معاملے سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے کانگریس اور بی جے پی گمراہ کن مباحث چھیڑ رہےہیں۔انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے مودی بی سی ہیں یا نہیں؟ جیسے غیر ضروری سوال کو اچھال کر عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش کی ہے۔جس کے جواب میں بی جے پی کے مرکزی وزیر بنڈی سنجے نے راہول گاندھی کے مذہب اورذات پر سوالات اٹھائے ہیں۔بی آر ایس لیڈر کویتا نے تلنگانہ کے اولین وزیراعلیٰ و بی آر ایس سربراہ کے سی آر کی سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب میں شرکت کی بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کی۔
کویتا نے کہا کہ دونوں قومی پارٹیاں آپس میں الجھ رہی ہیں لیکن عوام کے حقیقی مسائل پر کوئی توجہ نہیں دے رہی ہیں۔سابق رکن پارلیمان نظام آباد نے کہا کہ مودی بی سی ہیں یا نہیں، اس سے عوام کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ راہول گاندھی کا مذہب کیا ہے، یہ بھی غیر متعلقہ معاملہ ہے۔رکن کونسل نے کہا کہ ہمارا واضح مطالبہ یہی ہے کہ بی سی برادری کی صحیح مردم شماری کی جائے اور انھیں حقوق فراہم کئے جائیں۔سابق چیف منسٹر کے سی آر کی دختر کے کویتا نے کہا کہ اگر کانگریس واقعی بی سی برادری کی ہمدرد ہے تو وہ فوری طور پر اسمبلی میں تحفظات کے لئے بل پیش کرے۔اسی طرح اگر بی جے پی بی سیز کے لئے فی الواقعی مخلص ہے تو مرکز میں اس بل کو منظوری دے۔انہوں نے واضح کیا کہ سب سے پہلے پسماندہ طبقات کی صحیح مردم شماری کی جائے اور انہیں ان کے حقوق فراہم کئے جائیں۔ عوام کو غیر ضروری مودی اور راہول گاندھی کی ذات و مذہب کے معاملہ میں الجھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی اور کانگریس آپس میں مل کر پسماندہ طبقات کو دھوکہ دے رہی ہیں اور ان کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہیں۔بی آر ایس لیڈر کویتا نے کہا کہ تلنگانہ نے کئی سیاسی سازشیں دیکھی ہیں۔ بی جے پی اور کانگریس کی یہ نئی سازشیں کامیاب نہیں ہوں گی۔کویتا نے دونوں جماعتوں کو انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ بی سیز کو مزید دھوکہ نہ دیا جائے بصورت دیگر ایسے حربوں کا سخت جواب دیا جائے گا۔

کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ ریونت ریڈی غیر سنجیدہ بیانات دے کر عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔14 ماہ کی حکمرانی میں کانگریس عوامی مسائل حل کرنے میں مکمل طورپر ناکام ہوچکی ہے۔ریاست میں ترقی کی رفتار رک چکی ہے اور عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔کانگریس حکومت کی نااہلی کی وجہ سے تلنگانہ کے عوام پریشان اور مایوس ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کے سی آر عوام کے قلوب میں بستےہیں۔ کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ کے سی آر وہ لیڈر ہیں جنہوں نے تلنگانہ ریاست کے حصول کے لئے اپنی جان کی بازی تک لگا دی۔عوام کے سی آر کی قربانیوں کو کبھی بھی فراموش نہیں کریں گے۔عوام کے سی آر کی سالگرہ پر خصوصی دعائیں کر رہے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ انہیں عزت و احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 14 مہینے کی کانگریس حکومت عوام کے لئے عذاب بن چکی ہے۔رکن کونسل کویتا نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام نے کانگریس حکومت کے 14 مہینے ایک خوفناک خواب کی طرح محسوس کئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں ترقیاتی منصوبے تعطل کا شکار ہو چکے ہیں۔کسان، طلبہ اور خواتین کے مسائل میں اضافہ ہو گیا ہے۔عوام کو نااہل حکمرانوں سے جلد از جلد نجات حاصل کرنی ہوگی۔بی آر ایس لیڈر نے کہا کہ عوام کی تائید وحمایت کے ساتھ کے سی آر مزید قوت اور بصیرت کے ساتھ تلنگانہ کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button