Urdu Daily

حضورا کرم شب براءت کو قبرستان تشریف لیجاتے اور پوری امت کی بخشش و مغفرت کیلئے دعا فرماتے تھے

Prophet Muhammad’s Visit to Cemetery on Shab-e-Barat

مرکزی جلسه شب براءت سے مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمدمستان علی قادری، مولانا مفتی موسی بن عبدالجلیل باحتجاج مولا نامفتی ڈاکٹر حافظ محمدصابر پاشاہ قادری کا خطاب

جور آباد 14 فروری (راست) کلویه البین امعہ المؤمنات مظلپور و حیدر آباد کے زیر اہتمام محفل شب براءت 13 فروری کو احاطہ مدرسہ ھذا میں زیر نگرانی ڈائریکٹر اینڈ فاؤنڈر جامعہ المؤمنات مغلپورہ حیدرآباد مولا نا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد مستان علی قادری منعقد ہوئی۔ روحانی اجتماع میں بعد نماز عشاء تین مرتبہ سورہ بیسن کی تلاوت کے خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسمیت حج ہاؤز نامیلی حیدر آباد مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے کیا مولانا مفتی موسی بن عبدالجلیل با تبان نے دعا چہرہ شعبان المعظم یعنی دعائے شب برات پڑھوایا اس موقع پر اظہار خیال کرتے

مہینہ میں لکھ لیتا ہے۔ اس لئے مجھ کو یہ اچھا معلوم ہوتا ہے کہ اگر میرا نام بھی اس فہرست میں جس وقت لکھا جائے اس وقت میں روزے کی حالت میں ہوں۔ حضرت انس سے روایت ہے کہ حضور اقدس نے فرمایا کہ ماور جب کی بزرگی باقی سب مہینوں پر ایسی ہے جیسی کہ تمام انبیاء کرام پر مجھے بزرگی دی گئی ہے۔ رمضان المبارک کی بزرگی باقی میچوں پر ایسی ہے جیسی کہ تمام مخلوقات پر اللہ تعالی کی بزرگی و عظمت اور فضیلت ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضور اکرم نے فرمایا کہ شعبان ، رجب اور رمضان المبارک کے درمیان ایک مہینہ ہے اور اس کی عظمت وفضیلات سے لوگ غافل ہیں،

ہوئے انقلایا کہ شب براء ت وو مقدس رات ہے کہ جسکو اللہ تعالی نے قرآن مجید آسمان دنیا کی طرف نزول احلال فرماتے ہیں اور بنو کلب کی بکریوں کے بالوں اس مہینہ میں بندوں کے عمل اللہ تعالی کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اس لئے میں "لیل مبارک یعنی برکتوں والی رات کے نام سے ذکر کیا ہے اور یہ سٹیل کے برابر لوگوں کی مغفرت فرمادیتے ہیں۔ حضرت ابو طلبہ مستی سے روایت ہے میں اس بات کو دوست اور محبوب رکھتا ہوں کہ جب میرے اعمال اٹھائے مبارکہ شعبان المبارک جیسے مہینہ میں واقع ہے جس کے بارے میں حضور اکرم کہ حضور اکرم نے فرمایا کہ جب شعبان کی چدرھویں شب ہوتی ہے تو اللہ تعالی جائیں تو میں روزے سے ہوں ۔ شب براءت کی عظمت وفضیلت کے بارے نے ارشاد فرمایا کہ شعبان میرا مہینہ ہے۔ رجب اللہ تعالی کا مہینہ ہے اور رمضان اپنی مخلوق پر نظر رحمت ڈال کر مسلمانوں کی مغفرت فرمادیتے ہیں، کافروں کو میں جلیل القدر تابعی حضرت عطاء بن یسار فرماتے ہیں کہ شب قدیر کے بعد المبارک میری امت کا مہینہ ہے المعظم اور شب براءت کی احادیث مہلت دیتے ہیں اور کینہ پروروں کو ان کے کینہ کی وجہ سے چھوڑ دیتے ہیں تا شعبان کی پندرھویں شب (شب براءت ) سے زیادہ کوئی رات افضل نہیں مبار کہ اور روایات میں بہت زیادہ اہمیت وفضیلت آئی ہے، اس مبارک رات وقتیکہ وہ کینہ پروری چھوڑ دیں ۔

حضرت عثمان بن ابی العاص سے روایت ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی فرماتے ہیں کہ حضوراکرم نے فرمایا کہ جب شعبان کی کے بہت سے نام ہیں اس کو لیلتہ الھک یعنی دستاویز والی رات لیلة الرحم حضوراکرم نے فرمایا کہ جب شعبان کی پندرھویں شب ہوتی ہے تو اللہ تعالی کی چدرھویں شب آئے تو رات کو نماز پڑھو اور اگلے دن روز و رکھو، کیونکہ غروب یعنی اللہ تعالٰی کی رحمت خاصہ کے نزول کی رات کے نام سے بھی ذکر کیا جاتا طرف سے ) ایک پکارنے والا پکارتاہے کہ کیا کوئی مغفرت کا طالب ہے کہ میں آفتاب سے لیکر صبح صادق کے طلوع ہونے تک اللہ تعالی آسمان دنیا پر رہتے ہے۔ اس مبارک رات میں اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتوں اور پر کتوں کا نزول ہوتا اس کی مغفرت کر دوں کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ میں اس کو عطا کر دوں ۔

اس وقت ہیں اور فرماتے ہیں ہے کوئی مجھ سے بخشش مانگنے والا کہ میں اسے بخش دوں ؟ ہے، بخشش و مغفرت اور رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، انعام و بندہ اللہ تعالی سے جو مانگتا ہے اس کو ملتا ہے سوائے بدکار عورت اور مشرک ہے کوئی رزق طلب کرنے والا کہ میں اسے رزق دیدوں؟ ہے کوئی مصیبت زدہ اگرام کی بارش ہوتی ہے تو یہ اور دعائیں قبول ہوتی ہیں، اس رات میں آئندہ کے ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم نے کہ میں اسے مصیبت سے نجات دوں؟ ہے کوئی ایسا… ہے کوئی ایسا۔ شب سیال کی اموات و پیدائش لکھی جاتی ہیں اور اس رات میں ان کے رزقوں کی بھی فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ اس رات یعنی شعبان کی چدرہویں شب (شب برات میں قبرستان جا کر اپنے عزیز واقارب اور تمام فوت شد و مسلمانوں کیلئے تقسیم کر دی جاتی اور اس رات میں بندوں کے اعمال و افعال آسمان پر لیجائے براءت ) میں کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے دریافت کی کہ یا رسول اللہ گیا ہوتا ہے؟ دعائے مغفرت کرنی چاہیے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ا کرم شب جاتے ہیں اور اس رات میں اللہ تعالی بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر حضور اکرم نے فرمایا کہ اس شب میں یہ ہوتا ہے کہ اس سال میں جتنے بھی پیدا براوت کو قبرستان تشریف لیجاتے تھے اور پوری امت محمد سید کی بخشش و مغفرت بندوں کو دوزخ کی آگ سے نجات عطا فرماتے ہیں لیکن اس بخشش و مغفرت ہونیوالے ہیں وہ سب لکھ دیئے جاتے ہیں اور جیتنے اس سال میں مرنے والے کیلئے دعا فرماتے تھے ۔

اس رحمت و برکت اور بخشش و مغفرت والی رات اللہ تعالی کی نظر رحمت اور اس رات کی برکات وثمرات سے مشرک، کینہ پرور ہیں وہ سب بھی اس رات میں لکھ دیئے جاتے ہیں اور اس رات میں سب بندوں (شب براءت ) میں خوب عبادت وریاضت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا رشتہ داروں سے قطع تعلقی کرنے یعنی ان کے حقوق پورے نہ کرنے والا والدین کے اعمال ( سارے سال ) اٹھائے جاتے ہیں اور اس رات میں لوگوں کی مقررہ ہوگا اور تکبر، عناد، حسد، بغض کین، شراب نوشی، زنا کاری اور رشتہ داروں سے قطع کا نافرمان، کسی انسان کو ناحق قتل کرنے والا ، بدکار عورت، ببیند، پاجامہ وغیرہ روزی اتاری جاتی ہے۔

مشہور تابعی حضرت عطاء بن بہار فرماتے ہیں کہ جب تعلقی کو ختم کرنے ہوئے ہے دل سے تو بہ کر کے اللہ تعالی کے حضور اپنی پیشانی مخنوں سے نیچے لٹکانے والا یعنی متکبر ، زانی اور شرابی محروم رہتا ہے۔ جب تک یہ شعبان کی پندرھویں شب ہوتی ہے تو اللہ تعالی کی طرف سے ایک فہرست ملک کو جھکاتے ہوئے انتہائی خشوع و خضوع ، عاجزی وانکساری کے ساتھ گڑگڑا کر سب ان چیزوں سے بچے دل سے توبہ کر کے اپنے آپ کو درست نہیں کر لیتے۔

الموت کو دی جاتی ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ جن جن لوگوں کے نام اس فہرست اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی بخشش و مغفرت جہنم سے پناہ اور جنت الفردوس حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ حضور اکرم نے فرمایا کہ پانچ راتیں میں درج ہیں ان کی روحوں کو قبض کرنا کوئی بندہ تو باغوں کے درخت انگار ہا ہوتا کیلئے دعائیں کرنا ہوگی۔ واضح رہے اس مبارک رات کو آتش بازی، کھیل ایسی ہیں کہ جن میں کی جانے والی دعا ئیں رد نہیں ہوتیں یعنی ضرور قبول ہوتی ہے کوئی شادی کر رہا ہوتا ہے کوئی تعمیر میں مصروف ہوتا ہے حالانکہ

اس کا نام تماشے کی نذر کرنا انتہائی بدسختی کی علامت اور ہندوانہ رسومات پر عمل پیرا ہو کر ہیں، (1)۔ شب جمعہ (2) ۔ رجب کی پہلی رات (3) ۔ شعبان کی مردوں کی فہرست میں لکھا جا چکا ہوتا ہے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ فرماتی اپنے آپ کو اللہ تعالی کی رحمت و برکت اور اس کی بے پایاں بخش بخشش و مغفرت چدرہویں شب ( شب برات) (4) عید الفطر کی رات (5) عیدالانی کی ہیں کہ حضورا کرم شعبان میں روزے رکھنے کو بہت زیادہ محبوب رکھتے تھے، ایک سے دور کرنے کے مترادف ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر خواجہ محمد صادق علی ملتی رات کے جس سے دل میں بھی ہے اس امین و امید را کو دیا ہے تو میں نے آپ سے اس کی میں ہیں توآپ نے جاب میں فرمایا کہ اس میداریم قاری حافظ ام صعب اور ان کے علاوہ دیگر حضرات بھی موجود روایت ہے کہ حضور اکرم نے فرمایا کہ بلاشبہ الہ تعالی شعبان کی پندرہویں شب عائشہ جن لوگوں نے اس سال میں مرتا ہے ہوتا ہے ملک الموت ان کے نام اس تھیں۔

 

Prophet Muhammad’s Visit to Cemetery on Shab-e-Barat

متعلقہ مضامین

یہ بھی چیک کریں۔
Close
Back to top button