تہور رانا کی حوالگی ایف 35 لڑاکا طیاروں کی خریداری سمیت کئی اہم معاہدوں کا اعلان
Tahoor Rana Extradition and F-35 Fighter Jet Deal

واشنگتن، 14 فروری (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مئی میں 26 نومبر 2008 کے دہشت گردانہ حملے کے ماسٹر مائنڈ مشہور رانا کو ہندوستان کے حوالے کرنے ، ہندوستانی فضائیہ کے لئے ایف 35 لڑاکا طیاروں کی خریداری کی راہ ہموار کرنے اور ہندوستان کو تیل اور گیس کی فراہمی سے متعلق معاہدے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی صدر نے یہ اعلان وائٹ ہاؤس میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ چار گھنے کی میٹنگ کے بعد کیا اور اشارہ دیا کہ وہ ہندوستان کی طرف سے خالصتانی دہشت گردوں کی حوالگی کی جانب قدم اٹھانے جارہے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم مودی کو اللہ دیال کے مسئلہ پر مناسب قدم اٹھانے کا مشورہ بھی دیا۔ تجارتی معاہدوں کے حوالے سے امریکی صدر نے واضح کیا کہ وہ کسی کو شکست دینے کے حق میں نہیں بلکہ امریکہ کے مفادات کے خودی کے حق میں ہیں۔
جب مہ پہنچے تو مسٹر لامپ نے ان کا پر تپاک استقبال کیا اور انہیں گلے لگایا۔ مسٹر ٹرمپ نے کہا: "ہم نے آپ کو یاد کیا ہم نے آپ کو بہت یاد کیا۔ مجھے وزیر اعظم مودی کا استقبال کرتے ہوئے بہت خوشی ہوئی۔ وہ ایک طویل عرصے سے میرے بہت اچھے دوست رہے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے اوول آفس میں ملاقات کی اور پھر وفود کی سطح پر بات چیت ہوئی ۔ صدر زیب نے وزیر اعظم کو ایک کتاب Our Journey Together تختہ میں دی۔ انہیں باڈی مودی اور نمستے اپ کے پروگراموں سے متعلق کئی تصاویر دکھائی گئیں۔ مسٹر ٹرمپ نے کتاب پر دستخط کرتے ہوئے لکھا "مسٹر پی ایم آپ تنظیم ہیں۔ بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں وائٹ ہاؤس میں وزیر اعظم مودی کا
استقبال کرتے ہوئے بہت
پر جوش ہوں۔ ہم نے یہاں اور ہندوستان میں بھی کافی وقت گزارا ہے۔ ہم نے 5 سال پہلے آپ کے خوبصورت ملک کا دورہ کیا تھا۔ یہ ایک نا قابل یقین وقت تھا۔ دنیا کی قدیم اور سب سے بڑی جمہور توں امریکہ اور بہندوستان کے درمیان ایک خاص رشتہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑے اعزاز کی بات ہے کہ ہندوستانی وزیر اعظم مودی یہاں آئے ہیں۔ وہ ایک عرصے سے میرے بہت اچھے دوست رہے ہیں۔ ہمارا ایک شاندار تعلق رہا ہے اور اپنے 14 سال کے تعلقات میں اس رشتے کو برقرار رکھا ہے .. ہم نے ابھی دوبارہ آغاز کیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمارے پاس بات کرنے کے لئے کچھ واقعی بڑی چیز میں ہیں۔ وہ ہمارا بہت سا تیل اور گیس خریدنے جارہے ہیں ۔ ہمارے پاس دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں زیادہ تیل اور گیس موجود ہے۔ انہیں اس کی ضرورت ہے، اور ہمارے پاس ہے۔ ہم کاروبار کے بارے میں بات کرنے جارہے ہیں۔ ہم بہت سی چیزوں کے بارے میں بات کرنے جارہے ہیں۔
مسٹر ٹرمپ نے کہا، "مجھے یا اعلان کرتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ میری انتظامیہ نے 2008 کے معنی دہشت گردانہ حملے کے مجرموں میں سے ایک تبور رانا کو ہندوستان کے حوالے کرنے کی منظوری دے دی ہے جسے ہندوستان میں انصاف کا سامنا کرتا ہے۔ وہ دہشت گردانہ حملے کے سلسلے میں انصاف کا سامنا کرنے کے لئے ہندوستان واپس جارہا ہے ۔ مسٹر ٹرمپ نے کیا اس سال سے ہم ہندوستان کو دفاعی فروخت میں اربوں ڈالر کا اضافہ کریں گے ۔ "ہم ہندوستان کو ایک 35- لڑاکا طیارہ فراہم کرنے کی راہ بھی ہموار کر رہے ہیں۔ "مسٹر ٹرمپ نے کہا، "وزیر اعظم اور میں نے توانائی کے حوالے سے ایک اہم معاہدہ بھی کیا ہے جو اس بات کو قینی بنائے گا کہ امریکہ ہندوستان کو تیل اور قدرتی گیس کا سب سے بڑا اسپائر بن جائے ۔ توقع ہے کہ امریکہ نمبر 1 سپلائر ہوگا۔ امریکی جوہری صنعت کی بے مثال ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے ، ہندوستان امریکی جوہری ٹیکنالوجی کا خیر مقدم کرنے کے لیے قوانین میں بھی اصلاحات کر رہا ہے، جو ہندوستانی مارکیٹ میں ہماری جو ہری ایکنا لوجی تک اعلی ترین سطح تک رسائی کویقینی بنائے گا۔
آئی ایم ای سی الہ یا مدل ایسٹ یورپ اکنامک کوریڈور ) کا حوالہ دیتے ہوئے ، امریکی صدر نے کہا، "ہم نے تاریخ کے سب سے بڑے تجارتی راستوں میں سے ایک کی تعمیر کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔ یہ ہندوستان سے اسرائیل سے اٹلی اور اس کے بعد امریکہ تک چلے گا ، ہمارے شراکت داروں کو سڑکوں ، ریلوے اور میر سمندر کھیلا کے ذریعے جوڑے گا۔ سی ایک بڑی پیشرفت ہے۔” امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ بات چیت کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ ہندوستان اور امریکہ اسٹر جنگ شراکت داری کو آگے بڑھاتے رہیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہا بھی اشتراک و تعاون ایک بہتر و با تشکیل دے سکتا ہے۔ مسٹر مودی نے کہا کہ دونوں فریقوں نے فرسٹ یعنی اسٹریٹنگ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے تعلقات کو تبدیل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے تحت اہم معدنیات ، اعلی قسم کے میٹر میں اور ادویات کی مضبوط سپلائی حین بنانے پر زور دیا جائے گا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ امریکہ، ہندوستان کی دفاعی تیاریوں میں اہم رول ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹریٹجک اور قابل اعتماد شراکت داروں کے طور پر دونوں ممالک مشتر کہ ترقی بیشتر کہ پیداوار اور ٹیکنالوجی کی متلی کی طرف تیزی کے ساتھ آگے بڑھد ہے ہیں۔
مسٹر مودی نے کہا کہ ہندوستان اور امریکہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں مضبوطی سے ایک ساتھ کھڑے رہے ہیں اور دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ سرحد پار دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے نفوس کارروائی کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے 2008 میں ہندوستان میں قتل عام کرنے والے تبور رانا کو ہندوستان کے حوالے کرنے کے فیصلے پر امریکی صدر کا شکر میادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور امریکہ کی شراکت داری جمہوریت اور جمہوری اقدار اور انکام کو مستحکم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ہندوستان بحرالکاہل خطے میں امن، احکام اور خوشحالی کو بڑھانے کے لیے مل کر کام کریں گے اور کواڑ ک اس میں خاص کردار ہوگا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے اپنی قیادت کے ساتھ ہندوستان- امریکہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ یہ کہتے ہوئے کہ امریکہ میں موجود ہندوستانی برادری دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک اہم کڑی کا کام کرتی ہے مسٹر مودی نے اعلان کیا کہ ہندوستان لاس اینجلس اور بوسٹن شہروں میں نے قونصل خانے کھولے گا۔ غیر قانونی امیگریشن سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ سوال صرف ہندوستان کے لیے نہیں ہے، بلکہ اس میں دیگر مکوں میں غیر قانونی طور پر رہائش پذیر تمام لوگ شامل ہیں۔ ایسے لوگوں کو یہاں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے ہمیشہ کہاہے کہ وہ امریکہ میں غیر قانونی طور پر بنے والے اپنے تمام شہریوں کو واپس لینے کے لیے تیار ہے۔ مسٹر مودی نے کہا کہ یہ تمام لوگ عام کہنیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہیں گمراہ کر کے امریکہ لے جایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسے میں انسانی اسمگلنگ کے پورے ایکو سٹم کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ بعد ازاں صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں ان سے پوچھا گیا کہ اگر آپ ہندوستان کے ساتھ تجارت میں سختی کرنے والے ہیں تو چین کا مقابلہ کیسے کریں گے ؟ امریکی صدر نے کہا کہ ہم جسے چاہیں ہرا سکتے ہیں۔ لیکن ہم کس کو برانا ہیں چاہتے۔ ہم واقعی اچھا کام کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے امریکی عوام کے لیے بہت اچھا کام کیا ہے ۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہی کرین میں امن قائم کرنے کے اپنے منصوبے میں بہندوستان کو کردار ادا کرتے ہوئے دیکھتے ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا ہم بس اچھی طرح سے مل رہے ہیں۔ ہم تمام ممالک کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ ہم بہت اچھا کرنے جارہے ہیں۔
مسٹر مودی نے کہا ، جہاں تک ہوں یا کر ین تنازعہ کاتعلق ہے، مجھے بہت خوشی ہے کہ صدر ٹرمپ نے امن کی بحالی کے لیے پیل کی ہے اور صدر پوتن اور صدر زبالنسکی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔ امریکہ میں خالصتانی علیحدگی پسندوں سمیت ہندوستان کے خلاف کام کرنے والے عناصر کے بارے میں صدر ٹرمپ نے کہا ، (۲) مجھے نہیں لگتا کہ بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ ہندوستان کے اچھے تعلقات تھے ۔ بہت سی چیزیں ایسی ہو ئیں جو ہندوستان اور بائیڈن انتظامیہ کے درمیان زیادہ مناسب نہیں تھیں۔ ہم ایک انتہائی متحدہ شخص ( تبور رانا) کوفوری طور پر ہندوستان واپس کر رہے ہیں ۔