تعلیم ؍ ایجوکیشنتلنگانہ ؍ اضلاع کی خبریںگوشہ خواتین

ہنر، جذبہ، اور حوصلہ ہو تو قسمت کی تحریر بھی بدلنا ممکن

شبانہ نے مایوسی کو ہنر میں تبدیل کرکے گولڈ میڈل حاصل کیا

ہنر، جذبہ، اور حوصلہ ہو تو قسمت کی تحریر بھی بدلنا ممکن
شبانہ نے مایوسی کو ہنر میں تبدیل کرکے گولڈ میڈل حاصل کیا، آندھرا پردیش میں خطاطی کورسس مکمل کرنے والی پہلی طالبہ

تحریرانسان کی شخصیت کا آئینہ ہوتی ہے۔شیخ شبانہ نے فن خطاطی کے ساتھ اپنے عزم کے ذریعہ اپنی قسمت کی تحریر کو سنوارنے کا کام کیا۔اس نے ہمت نہیں ہاری اورمایوسی کو ہنرمیں بدل کر خطاطی میں گولڈ میڈل حاصل کرکے اپنی تقدیر کو سنوارلیا۔یہ کہانی آندھراپردیش کے ضلع کرنول کے وینکایا پلے گاؤں کی 25 سالہ شیخ شبانہ کی ہے جس نے ابتدائی تعلیم مقامی سطح پر مکمل کی، تاہم ساتویں جماعت میں تعلیم کو ترک کرناپڑا۔ حالات کے جبر نے کم عمری میں زبردستی شادی کا فیصلہ اس پر تھوپ دیا، مگراس نے ہار ماننے کے بجائے اپنی زندگی خود سنوارنے کا فیصلہ کیا۔ شادی ناپسند ہونے کے باعث شبانہ نے کرنول کی ’ویمن آرمی‘ نامی تنظیم سے رابطہ کیا جس نے اسے نہ صرف سہارا دیا بلکہ تعلیمی سفر دوبارہ شروع کرنے کا موقع بھی فراہم کیا۔ اسی کی بدولت شبانہ نے دسویں اور انٹرمیڈیٹ کی تعلیم فاصلاتی نظام کے ذریعہ مکمل کی۔بعد ازاں، حیدرآباد کے قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان(این سی پی یوایل)میں داخلہ لے کر خطاطی کے فن کو سیکھنے کا عزم کیا۔ا س ادارہ کے ماہر خطاط محمد عبدالغفارکی زیرِ نگرانی شبانہ نے ڈپلومہ ان عربی، ڈپلومہ ان اردو، اور ڈپلومہ ان خطاطی مکمل کیا۔ اردو، عربی اور انگریزی میں اس کی خطاطی کے نمونے دیکھنے والوں کو حیران کر دیتے ہیں۔ مرکزی وزارتِ اعلیٰ تعلیم اوراین سی پی یوایل کے زیر اہتمام حیدرآباد میں 2022-24 کے بیچ کے طلبہ کی طرف سے ایک خصوصی تقریب منعقد کی گئی، جہاں طلبہ نے قرآنی آیات، عربی، اردو اور انگریزی کے نایاب و قدیم طرز کے رسم الخط پیش کیے۔ چاول، گندم، بکری کی کھال، انڈے کے چھلکے اور بادام کے بیج پر لکھی گئی خطاطی نے سب کو حیران کر دیا، اور شیخ شبانہ کی تخلیقی صلاحیتوں نے گولڈ میڈل کا حقدار بنا دیا۔ اسے جاریہ سال 24 جنوری کوگولڈ میڈل اور سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا۔ خاص بات یہ رہی کہ وہ آندھرا پردیش میں ان خطاطی کورسس کو مکمل کرنے والی پہلی طالبہ بن گئی۔ شیخ شبانہ کی یہ کامیابی نہ صرف اس کی محنت اور لگن کی گواہی دیتی ہے، بلکہ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ ہنر، جذبہ، اور حوصلہ ہو تو قسمت کی تحریر کو بھی بدلا جا سکتا ہے!

متعلقہ مضامین

Back to top button