تلنگانہ میں 2028میں بی آرایس کی اقتدار پر واپسی یقینی
کے چندرشیکھرراﺅ دوبارہ چیف منسٹر بنیں گے۔ کانگریس حکومت پر کارگزار صدر کے ٹی آر کی تنقید

تلنگانہ میں 2028میں بی آرایس کی اقتدار پر واپسی یقینی
کے چندرشیکھرراﺅ دوبارہ چیف منسٹر بنیں گے۔ کانگریس حکومت پر کارگزار صدر کے ٹی آر کی تنقید
حیدرآباد۔31جنوری(آداب تلنگانہ نیوز)کارگزارصدر بی آرایس ورکن اسمبلی سرسلہ کے تارک راماراﺅ نے آج پرزورانداز میں کہاکہ بی آرایس پارٹی 2028میں اقتدار پر واپس آئے گی اور کے چندرشیکھرراﺅدوبارہ چیف منسٹر کے عہدہ پر براجمان ہوںگے۔انہوںنے کہاکہ کانگریس حکومت نے گزشتہ دس برسوں کے دوران حاصل کردہ ترقی کو روک دیاہے۔انہوںنے کانگریس کو شدید ہدف تنقید بنایا۔کے ٹی آر نے اس بات کا اعادہ کیاکہ تلنگانہ کے عوام عنقریب کانگریس کی ناکامیوں کو جان لیںگے اور سال 2028میں چندرشیکھر راﺅ کو اقتدار پر واپس لائیںگے۔وہ مختلف بلدیات کے صدورنشین اور کونسلرس کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔جن کی میعاد آج اختتام پذیر ہوئی۔ تلنگانہ بھون میں صدورنشین بلدیات اور کونسلرس کو تہنیت پیش کی گئی ۔سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کے تارک راماراﺅ نے کہاکہ اب جب کہ مختلف ممالک شہریانے کےلئے جدوجہد کررہے ہیں وہیں کے چندرشیکھر راﺅ کی قیادت میں تلنگانہ کے شہروں کو مثالی شہری مراکز میں کامیابی کے ساتھ تبدیل کیاگیا۔انہوںنے کہاکہ صرف شہر کی توسیع سے ترقی کو یقینی نہیں بنایاجاسکتا۔ شہر کی ترقی کےلئے جامع منصوبہ بندی ‘انتظامی اصلاحات‘ مسلسل نگرانی اور مستحکم مالی مد د کی ضرورت ہوتی ہے۔انہوںنے کہاکہ دس برسوں تک ہم نے اسی نقطہ نظر کے ساتھ کام کیا اور عوام کو ترقی پر مبنی رپورٹس پیش کیں۔قیام تلنگانہ سے قبل بلدیات کی حالت زار کا تذکرہ کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہاکہ ماضی میں شہری علاقے بدعنوانی اور جمود سے عبارت تھے۔قبل ازیں بلدیات کی حالت انتہائی ابتر تھی۔بلدیات سے متعلق عوام کہتے تھے کہ’ بلدےہ معنی کھایاپیا چل دیا‘تاہم بی آرایس کے برسراقتدار آنے کے بعد ایک نیا ویژن نافذ کیاگیا۔جس میں تلنگانہ کے شہروں کو معاشی انجنوں میں تبدیل کیاگیا۔گزشتہ دس برسوں کے دوران صدورنشین بلدیات اور کونسلرس نے اس تبدیلی میں نمایاں کرداراداکیا اور متعدد قومی ایوارڈس حاصل کئے۔انہوںنے میعاد کے اختتام پر سبکدوش صدورنشین بلدیات اور کونسلرس پر زوردیاکہ وہ عوام کے درمیان رہےں ۔انہوںنے پیش قیاسی کی کہ سبکدوش منتخبہ نمائندے اپنی خدمات کے ذریعہ دوبارہ منتخب ہوںگے۔کارگزار صدر بی آرایس نے بڑے پیمانے پر انتظامی اصلاحات کا سہرا بی آرایس حکومت کے سرباندھا۔بی آرایس نے نئے اضلاع ‘بلدیات اور کارپوریشنس کی تشکیل عمل میں لائی اور عوامی نظم ونسق کو شہریوں کی دہلیز تک پہنچایا۔انہوںنے کانگریس حکومت پر شہری ترقی کو روکنے کا الزام عائد کیا اور کہاکہ کانگریس کی ناقص کارکردگی کے باعث جائیدادوں کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔انہوںنے کہاکہ جدید بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر کے بجائے کانگریس حکومت حیدرا اور دریائے موسیٰ کی بحالی کے پروجیکٹ کے نام پر غریبوں کی موجودہ جائیدادوں کو مسمار کررہی ہے۔کے ٹی آر نے کانگریس کے وزراءکو شدید تنقید کا نشانہ بنایااور کہاکہ شہروں جیسے نلگنڈہ میں بلدی عملہ کو تنخواہوں کی ادائیگی میں حکومت ناکام ہے۔انہوںنے کانگریس کی حکمرانی کا تمسخر اڑایا اور کانگریس کے انتخابی وعدوں کو دھوکہ اور فریب قراردیا۔کے ٹی آر نے پرزورانداز میں کہاکہ کانگریس پارٹی 420ضمانتوں کے نام پر اقتدار پر فائز ہوئی۔تاہم وہ ےہ نہیں جانتی کہ حکومت کس طرح کی جاتی ہے۔انہوںنے طنز کیاکہ کانگریس نے دعویٰ کیاکہ کسانوں کے بینک کھاتوں میں رقم کی بارش ہوگی تاہم ایسا صرف دہلی میں ہورہاہے۔