شہر کی خبریں

جی ایچ ایم سی کونسل کے اجلاس میں ہنگامہ آرائی۔اپوزیشن کے احتجاج کے دوران بجٹ منظور

جی ایچ ایم سی کونسل کے اجلاس میں ہنگامہ آرائی۔اپوزیشن کے احتجاج کے دوران بجٹ منظور

گریٹرحیدرآبادمیونسپل کارپوریشن(جی ایچ ایم سی) کونسل اجلا س میں آج ہنگامہ آرائی دیکھی گئی۔اپوزیشن کے احتجاج کے دوران بجٹ منظورکرلیاگیا۔ اجلاس کے آغاز کے کچھ دیر بعد سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ اور رتن ٹاٹا کی تعزیتی قرارداد پیش کی گئی۔ بعد ازاں میئرجی وجئے لکشمی نے اعلان کیا کہ بجٹ پیش کیا جائے گا، لیکن بی آر ایس اور بی جے پی کے ارکان نے مطالبہ کیا کہ پہلے عوامی مسائل پر بحث ہونی چاہئے، پھر بجٹ پیش کیا جائے۔ اس دوران بی آر ایس کے ارکان نے میئر کے پوڈیم کا گھیراؤ کرنے کی کوشش کی، جس پر کانگریس کے کارپوریٹرس سی این ریڈی اور بابا فصیح الدین نے مداخلت کی اور بی آر ایس کے ارکان سے پلے کارڈ چھین کر پھاڑ دیئے۔ اس سے اجلاس میں کشیدگی پیدا ہوگئی اور بی آر ایس اور کانگریس کے کارپوریٹرس میں دھکم پیل شروع ہوگئی۔ بی آر ایس کے ارکان میئر کے پوڈیم تک پہنچ گئے اور اس پر پلے کارڈس پھینکے، جس کے باعث میئر نے اجلاس کو پانچ منٹ کے لیے ملتوی کر دیا۔ جب اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو احتجاج جاری رہا۔ میئر نے ارکان سے اجلاس کی کارروائی میں تعاون کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ بجٹ پر بحث ضروری ہے، لیکن احتجاج جاری رہا۔ ارکان کے مسلسل احتجاج کے باوجود میئر نے 2025۔26 کے مالی سال کے لیے 8,440 کروڑ روپے کے بجٹ کی منظوری کا اعلان کر دیا۔ میئر نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے بجٹ کو منظور کر لیا اور اجلاس کو مزید دس منٹ کے لیے ملتوی کر دیا۔ دس منٹ بعد اجلاس دوبارہ شروع ہوا، لیکن تین بی آر ایس ارکان کو مارشلس نے باہر نکال کر پولیس وین کے ذریعہ جی ایچ ایم سی کے دفتر سے منتقل کردیا۔ بعد ازاں جب وقفہ سوالات شروع ہوا تو بی آر ایس کے ارکان نے پھر رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی اور باہر نکالے گئے بی آر ایس کے کارپوریٹرس کو ہال میں واپس لانے کا مطالبہ کیا۔ میئر نے کہا کہ بی آر ایس کے ارکان نے ان پر کاغذات پھینکے ہیں، جس پر کانگریس کے ارکان نے مطالبہ کیا کہ انہیں میئر سے معافی مانگنی چاہیے۔ بی آر ایس کے ارکان ایک بار پھر میئر کے پوڈیم کے سامنے احتجاج کے لیے پہنچ گئے، جس پر میئر نے اجلاس کو مزید دس منٹ کے لیے ملتوی کر دیا۔ بعد ازاں گرفتار کارپوریٹرس کو دوبارہ جی ایچ ایم سی کے دفتر لایا گیا۔

متعلقہ مضامین

Back to top button